8 فروری 2012 - 20:30

ہندوستان کے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ ان کا ملک برطانیہ کی مالی مدد کا محتاج نہیں ہے۔

ابنا: اخبار "ڈیلی ٹیلیگراف" کے مطابق پرنب مکھرجی نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں تاکید کی کہ ہندوستان برطانیہ کی مالی مدد کا محتاج نہیں بلکہ ہندوستان کی حکومت کی خواہش ہے کہ وہ خود ہی اس طرح کی مدد لینے سے انکار کردے کیونکہ نئی دہلی کو برطانیہ سےحاصل ہونے والی مدد بہت زیادہ نہیں ہے۔ ہندوستان ہر سال برطانیہ سے دو سو اسی ملین پونڈ کی مدد حاصل کرتا ہے اور برطانیہ سےمدد حاصل کرنے والے تمام ممالک کے درمیان ہندوستان کا نام سر فہرست ہے اور برطانیہ کو کہ جو امریکی حکومت کی طرح دنیا کے بعض ملکوں کو اپنے استعماری مقاصد کے تحت مالی امداد فراہم کرتاہے، اپنی اس پالیسی کو جاری رکھنے کے سلسلے میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔یورپ خاص کر برطانیہ میں مالی بحران میں اضافہ اس بات کا سبب بنا ہے کہ برطانیہ اپنی اس پالیسی کو جاری رکھنے پر دوبارہ غور وخوض کرے۔برطانیہ کے بعض ذرائع نے گزشتہ سال کہا تھا کہ مالی بحران میں اضافہ کی وجہ سے حکومت برطانیہ سے مدد حاصل کرنے والے سولہ ملکوں کی مالی مدد روک دی گئ ہے لیکن ان ملکوں کی فہرست میں ہندوستان کا نام موجود نہیں ہے اور برطانیہ سے مدد لینے والے ممالک میں ہندوستان کا نام بدستور شامل ہے۔ ہندوستان کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ جو گزشتہ برسوں کے دوران آٹھ فی صد سے زیادہ رہی ہے، ہندوستان کو برطانیہ کی مالی مدد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔خاص کر توقع یہ کی جا رہی ہے کہ آئندہ دس سالوں میں ہندوستان اقتصاد ی لحاظ سے برطانیہ سے آگے نکل جائے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ برطانیہ کا ہندوستان کی مدد کرنے کا مقصد اس ملک کی منڈیوں منجملہ غذائی مصنوعات کی منڈیوں اور فوجی امور میں رسوخپیدا کرنا ہے۔لندن کی حکومت اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ ہندوستان کو مدد کی فراہمی کی سیاست جاری رکھتے ہوئے ہندوستان کی منڈیوں میں زیادہ رسائی کے لئے دوسرے حریفوں پرسبقت حاصل کرلے۔البتہ ہندوستان بھی برطانوی حکومت کی سامراجی پالیسیوں سے آگاہی ہے اور اس کوشش میں ہے کہ لندن کی اس سیاسی چال کا شکار نہ ہو۔مثال کے طور پر کچھ دنوں پہلے ہندوستان نے برطانیہ کی کمپنی کے ٹیفون نامی ایک جنگی جیٹ جہاز کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کرنے سے گریز کیا تھا حکومت برطانیہ نے ہندوستان کے نام کو ہتھکنڈے کے طور پر اپنے جیٹ طیاروں کے ترجیحی خریداروں کی فہرست میں اس لئے رکھا تھا کہ یہ جیٹ طیارے بیچ کر چھ ارب پونڈ سے زائد رقم حاصل کر لے لیکن ہندوستان نے اس کی ان امیدوں پر پانی پھیر دیا۔برطانیہ سے مالی مدد حاصل نہ کرنے پر حکومت ہندوستان کی تاکید اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرقی ممالک میں مغرب پر انحصار سے نکلنے کی سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔ ......./169